1 مئی 2011 - 19:30

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

ابنا: ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آپریشن مشترکہ نہیں تھا بلکہ امریکی افواج نے خفیہ اطلاعات پر براہ راست آپریشن کیا تھا جس میں ایبٹ آباد کے قریب اسامہ بن لادن مارا گيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن پاکستان کے خفیہ اداروں کے تعاون سے کیا گيا۔ دوسری طرف پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئي ايس آئي کے سربراہ نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فورسس نے امریکی فورسس کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ آئي ایس آئي کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے کہا کہ اسامہ بن لادن اسلام آباد سے ساٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع شہر ایبٹ آباد میں مارا گيا ہے۔ پاشا نے بتایا کہ امریکی فوج کے آپریشن میں ان کا ایک محافظ اور تین بیٹے بھی مارےگئے ہیں جبکہ ان کی تین بیویوں اور چار قریبی افراد کو گرفتار کرلیا گيا ہے۔ادھر اینٹی وار ویب سائٹ کے ایڈیٹر جیسن ڈیٹز نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں امریکہ کی پالیسیوں میں کوئي تبدیلی نہیں آئے گي ۔ ڈیٹز نے پریس ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ ایسا نہیں لگتا ہے کہ مختلف ممالک میں امریکہ کے فوجی پروگراموں میں کوئي تبدیلی آئے گي۔ انہوں نے کہا کہ آج وہائٹ ہاوس اسامہ بن لادن کی ہلاکت پرجشن منا رہا ہے جبکہ امریکی حکام نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی اتنی اہمیت نہیں ہے کہ اس کے خلاف فوجی کاروائي کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کے موقف میں اس تضاد کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کی توانائي نہيں رکھتے تھے لیکن آج وہ اپنی اس کامیابی کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ زیادہ تر علامتی حیثیت رکھتا ہے اور سیاسی پروپیگنڈے سے کوئي حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ قابل ذکر ہے کہ اکثر ملکوں نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا خیر مقدم کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169